آج اسے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں رہنے کے لۓ پیسہ اور کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہے۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”
“ہمہ وقت اسے یہی پریشانی ہوتی کہ اس کی مصروفیت اس کی گھریلو زندگی پر اثر انداز نہ ہو۔”
“سفر نے مجھے بہتر انسان بنایا تھا — کم از کم میں خود کو اب پہلے جیسا نہیں سمجھتا تھا۔”
“میری پیاری اماں جان کے نام، جنھوں نے مجھے ہمیشہ ایسے کرداروں کے بارے میں بتایا جو زندگی کو جینے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.