ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“تقویٰ کو اب لگنے لگا تھا کہ اللہ اس کو اولاد اس لۓ نہیں دے رہا کیونکہ وہ غیر اللہ کے آگے سوالی بننے کا گناہ کر چکی ہے۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔”
“دنیا والے تمھیں غصے کا تیز کہتے ہیں پر میں جانتی ہوں تمھارا دل بہت اچھا ہے۔”
“محسن نے بغور دیکھا کہ عمر بڑے آرام سے گھر کا گیٹ بند کر رہا ہے ،جیسے کہ گھر میں کسی کو پتہ نہ چلے کہ وہ باہر جا رہا ہے .”
“جیز، زوبی کا چہرہ زینب حسین جیسا کرنے میں جُت گیا اور ہر شے کی پروا کیئے بغیر دن رات زینب حسین کو اپنے طور پر نئی زندگی دینے کی کوششوں میں تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.