دروازے سے چھد کے باہر آتی روشنی نہ اپنا عقیدہ بتا سکتی تھی اور نہ یہ کہ وہ ایک غریب غیر مسلح دیہاتی کے گھر کے دیے کی روشنی ہے۔ — Adil Seemab, اپنے حصے کی شمع Copy Share WhatsApp
by Adil Seemab
Non-Fiction · 25 pages
“معروض کے تجزیے اور متبادل مستقبل کی تشکیل کے لیے سہیل کا ''علتی تہوں کے تجزیے کا نظریہ'' ایک بہت دلچسپ طریقہ کار ہے جو اپنے معروض کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔”
“بلاشبہ آج کا پاکستانی معا شرہ ایک سماجی، معاشی اور فکری بحران کا شکار ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ بحران شد ّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔”
“سماجی سائنسی علوم کے استقبالی پہلو میں دلچسپی رکھنے والے محقیقین سہیل عنائت للہ کے نام سے یقینناؑ آگاہ ہوں گے۔”
“' صدائے دروں' عادل سیماب کی نثری اور آزاد نظموں کا پہلا مجموعہ ہے۔”
“مختلف عالمی مجّلوں میں سیاسی و بین الاقوامی تعلقات پر تحقیقی مقالے لکھنے کے علاوہ گاہے گاہے نثر و نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔”
“آپکی انفرادیت جدید فلسفیانہ رجحانات و مباحث کو اپنی نثری و آزاد نظموں میں منتقل کرنا اور اپنے معروض کے مسائل پر بلاخوف تبصرہ ہے۔”
I have been associated with teaching profession since last twelve years. I love to compose Nasri and Azad nazm in Urdu. My favorite poets are Rashid, Faiz and Faraz.
“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”
“اس کے لئے پہلے.آپ کو انہیں یقین دلانا ہوگا کہ آپ.انہیں جنتی اور جہنمی کی کیٹگری میں ڈال کر نہیں سوچتی بلکہ.ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچتی ہو.”
“"مسز عمیر "سکینہ رات مجھے اندازہ ہوا کی تمہاری بیٹی یقیناًکسی مشکل وقت سے گزری ہے۔”
“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.