عہدِ رفتہ کے سماجی انصاف کی یہی ساخت ہے، پیمانِ چاہت کی یہی شناخت ہے۔ — Aiman Riaz, طمانیت / Tamaniyat Copy Share WhatsApp
by Aiman Riaz
Romance · 30 pages
“"اچھا مگر کس کے ساتھ؟ رنگ کدھر ہیں؟" وہ مذاق سمجھ کے ہنسا پر اگلے ہی لمحے ایمان کے ہاتھ میں رائفل دیکھ کر اُس کا چہرہ تن گیا ۔”
“اُس کی محبت یاد آئی اور پھر اُس کی رب سے محبت کے قصے یاد آئے۔”
“طمانیت فقط اِک جسم نہ تھا، ایک جذبہ تھاجو ہمیشہ ایک دوست کے روپ میں میرے ساتھ رہا، سدا میری شناخت رہا اچھی یا بُری ، یہ طے کرنا ضروری نہیں۔”
“قلم اٹھاتے وقت یہ گمان نہ تھا کہ لکھت نگر میں قدم رنجه ہو کر نئى نئى کئى دنیائیں دریافت کروں گى۔”
“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”
“اُس کی کُشادہ پیشانی پر کامیابی کی لکیروں کا ایک جال سا بُنا ہوا تھا جسے وہ آنکھیں مِیچ کر مزید نمایاں کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔”
“"کوئی بتا ئے گاکیسے؟" نجف نے سوالیہ انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر اِس مرتبہ کسی کی جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی مباداً غلط نکلا توسُبکی ہو گی۔”
I am AIM of someone's life And I am the most powerful weakness of a common man...
“اب میرا ضمیر مردہ نہیں ہے وادی کے لوگوں کا دکھ اپنی جان پہ محسوس ہوتا ہے۔”
“دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔”
“متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔”
“چلو اب کام شروع کرو اور یاد رکھو اتحاد میں بڑی طاقت ہے ...اور تم سارے ہی میرے لیے بہترین بچے ہو ،چاہے کم نمبر لاؤ یا زیادہ ...”
Enter your account email and we'll send you a reset link.