بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ — Amna Shehzadi, Ghungroo- Urdu Novel About Identity Copy Share WhatsApp
by Amna Shehzadi
Contemporary Fiction · 30 pages
“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”
“جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔”
“شنایہ آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی، ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف تھا اور رخسار خالی آنکھوں سے اب بھی آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
“پانچ سال پہلے ِاسی نیم کے پیڑ کے نیچے شانی نے مودی موچی کو اللہ کے انتقام سے ڈرایا تھا اور آج وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے انتقام کو دیکھ رہا تھا۔”
“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”
“پرویز کو لگا تھا کہ جس دن زرمینہ کی ماں اس دنیا سے گئی تھی قیامت اُس دن آئی تھی، پر وہ غلط تھا قیامت نےتو آج آنا تھا۔”
A girl with high dreams and aspirations; trying to leave a mark on people's heart with her words.
“زمرد سے محبت میں وہ اتنی آگے آگئی تھی کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ میں نے اسے سچے دل سے چاہا ہے۔”
“دو مارچ کو ١٩۴۴ء کو بٹالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے اور آپ کا اصل نام حبیب الرحٰمن ہے۔”
“اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوۓ کے ہم آپکو اس کے بدلے میں کچھ نہ دے سکیں گيں؟"مسز عمیر" خدا نے میری کوکھ کو خالی رکھ کر بھی مجھے ایک ماں کا دل دیا ہے.”
“اس پار قدرت کے جو حسین و جمیل نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں تب ہی اصل طور پر ان ٹیڑھی سڑکوں کا لطف معلوم پڑتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.