“جب تک آپا دکھتی رہیں وہ بھی گاڑی کی کھڑکی میں منہ رکھ کر بیٹھا رہا، پھر ڈرائیور کے کہنے پر منہ اندر کر کے کھڑکی بند کرلی۔”

“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”
