اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔ — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”
“مگر کالج کے بعد کا سارا وقت وہ کسی گھریلو عورت کی طرح گھر کو سبھالتی'۔”
“میری وجہ سے تمہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں ,تم نے جو اذیتیں سہیں, میں ان سب باتوں کے لئے, دل سے معافی چاہتا ہوں!”
Im fiction writer & poetess.
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
“ان کی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک اپنے اور اپنے مدرسے کے بچوں کی تربیت اللہ کے احکامات کے مطابق کرنا اور اپنے گھر کو اللہ کی راہ میں وقف کرنا ہے۔”
“میں جب سے اسے جانتا ہوں تب سے اسے صرف ایک نرم دل روح پایا ہے، پر ٤ سال پہلے ہسپتال رہنے کے بعد تو وہ مزید جھک گیا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.