میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔
— Farah Bhutto, اعتبار کا موسم
“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”

“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”
