تذلیل گوارا کر لینے کے عوض دو وقت کی روکھی سوکھی توان تینوں کو آسانی سے دستیاب ہوجاتی مگر عزت نام کی کوئی چیزان کے آس پاس بھی نہ پھٹکتی ۔
— Asma Hassan, اُفق کے اُس پار
“"جی کروں گی آج بات مسسز نبیل کا بھی دو بار فون آ چکا ہے انہیں بھی یقین نہیں آ رہا کہ انکار بھی ممکن تھا ،کہہ رہیں تھیں شاید کوی غلط فہمی ہوئی ہے"،آمنہ نے جواب دیا۔”

“گھوڑے کی ہنہناہٹ اور اس کا دو پیروں پر اچھل کر خوشی سے جھومنا نیلوفر کو حیران کررہا تھا، اور اسی لمحے نیلوفر نے امید رنگ کے پروں کی پھڑپھڑ اہٹ سنی۔”
