ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔ — Asma Hassan, اُفق کے اُس پار Copy Share WhatsApp
by Asma Hassan
Drama · 16 pages
“کبھی کبھار بستے میں جھانک کر یوں دیکھتا ،جیسے کوئی اپنی نئی نویلی دلہن کو محبت بھری نگاہوں سے پیار کے سندیسے سناتاہے ۔”
“اس کی آنکھوں سے پھوٹنے والےکرب و تکلیف کا لاوا اس کے ماں باپو کو دکھائی دیتا تو وہ اس کے لبوں پر ھاتھ رکھ دیا کرتے۔”
“جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔”
Short Story writer. Favourite Category in writing is "Afsana Nigaari" and "Novel Nigaari"
“دسمبر کی شدید برف باری میں اپنے گھر کے گرم بستر پر ٹھٹھرتا ہوا، اکھڑتی سانس کے درمیان موت کی آہٹ سن رہا تھا۔”
“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”
“لوگوں کی ہمدردیاں بدل چکی تھیں اور غیرمتوقع نتائج سامنے آۓ تھے۔”
“مجھے لگا موت کا گھوڑا بڑی تیزی سے میری طرف دوڑتا چلا آرہا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.