آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
— Saba Ahmad, جہاں آراء
“مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں اس تصویر پر بَرملا خوشی کا اظہار کروں یا اس کے پیغام پر دُکھ کا مَلال کروں ....میں نے اپنے جذبات کا دَم گھوٹتے ہوئے اُس سے پُوچھا۔”

“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
