باپ کشاف کے سر پر ہاتھ پھیرتا،ماں کشاف کے سینے سے لگ کر اسے کامیاب لوٹنے کی دعائیں دیتی واپس لوٹ آئی۔ — Kosar Naz, گمان Copy Share WhatsApp
by Kosar Naz
Drama · 30 pages
“اس کی ماں بھی ایسی ہی تھی اس کے لئے خدا کے حضور دعاؤں کی گڑگڑاہٹ جاری رکھتی، اور وہ ماں کو اکثر دیکھ کر رہ جاتا۔”
“’یہاں آکر جیتنا میرے لئے خواب ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں، میرا ہر دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے۔”
“بچپن سے یہی چیزیں اس کے استعمال میں رہی تھیں اور کشاف زیادہ چیزیں بدلنے کا شوقین بھی نہیں تھا لیکن وہ اس چھوٹے سے کمرے میں لیٹا بہت بڑے بڑے خواب ضرور دیکھتا تھا۔”
“ہم جادو سے سبھی کچھ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن وہ ذات جو اس زمین اور آسمان کی مالک ہے، ان کے درمیان موجود ہر شے کی خالق و مالک ہے، وہ ہر شے پر قادر ہے۔”
“اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بالکل اسی طرح جیسے مجھے کبھی موت نہیں آسکتی۔”
“جیز، زوبی کا چہرہ زینب حسین جیسا کرنے میں جُت گیا اور ہر شے کی پروا کیئے بغیر دن رات زینب حسین کو اپنے طور پر نئی زندگی دینے کی کوششوں میں تھا۔”
“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”
کوثرناز سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں اور انہوں نے حال ہی میں اپنا ماسٹرز ( زولوجی) مکمل کیا ہے کوثرناز گذرشتہ ڈھائی سال سے لکھ رہی ہیں اور اس دوران انہوں نے کئی ادبی فورمز اور ویب سائٹس ا…
“اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔”
“گو کہ ایک باپ کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی سوہان روح تھی مگر ایک دیانتدار بادشاہ کے لیے یہ کٹھن فیصلہ کرنا ضروری تھا۔”
“نمازکا مقصد دن کو تقسیم کرکے اس کے استعمال کو یقینی بنانا، اللہ تعالی سے اپنے مشن پر قائم رہنے کی دعا اور مدد حاصل کرنے کا ذریعہ فراہم کرنا اور جسم کو صحت مہیا کرنا ہے۔”
“اس پورے سفر میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جس میں میں نے اللہ کو نہ یاد کیا ہو۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.