’یہاں آکر جیتنا میرے لئے خواب ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں، میرا ہر دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے۔ — Kosar Naz, گمان Copy Share WhatsApp
by Kosar Naz
Drama · 30 pages
“باپ کشاف کے سر پر ہاتھ پھیرتا،ماں کشاف کے سینے سے لگ کر اسے کامیاب لوٹنے کی دعائیں دیتی واپس لوٹ آئی۔”
“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”
“اس کی ماں بھی ایسی ہی تھی اس کے لئے خدا کے حضور دعاؤں کی گڑگڑاہٹ جاری رکھتی، اور وہ ماں کو اکثر دیکھ کر رہ جاتا۔”
“مزید یہ کہ ان کا اس شہر میں اپنا ایک ایسا ٹھکانہ بھی تھا جہاں یہ جادو کیا کرتے تھے، جو ان کی موت کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔”
“اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بالکل اسی طرح جیسے مجھے کبھی موت نہیں آسکتی۔”
“انہیں زندگی کا حسن متاثر کرتا ہے اور اسی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ، انسانی نفسیات کو جانچ کر لکھنا انہیں ذاتی طور پر پسند ہے۔”
“ہم جادو سے سبھی کچھ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن وہ ذات جو اس زمین اور آسمان کی مالک ہے، ان کے درمیان موجود ہر شے کی خالق و مالک ہے، وہ ہر شے پر قادر ہے۔”
کوثرناز سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں اور انہوں نے حال ہی میں اپنا ماسٹرز ( زولوجی) مکمل کیا ہے کوثرناز گذرشتہ ڈھائی سال سے لکھ رہی ہیں اور اس دوران انہوں نے کئی ادبی فورمز اور ویب سائٹس ا…
“' جب اس لڑکی کے باپ کو پتا چلا تو اسے بہت دکھ ہوایہ جان کر کہ اس کی بیٹی کو اس کی محبت پر یقین نہیں۔”
“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
“دیکھتے ہی دیکھتے ساری پریاں روشنیوں کے ہالوں میں تبدیل ہو گئیں اور مانٹاہرین کا آسمان روشنیوں میں نہا گیا۔”
“''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.