“''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
“''وہ کل تو اتوار کی وجہ سے بنی تھی اور آج اماں نے بنوائی ہے رات میں بہت بھیانک خواب دیکھ لیا تھا اسی لئیے آج خیر نکالا۔”
kafi arsy baad kuch acha parhany ko mila. Well written book. I appreciate the writer. And the line which touched my heart was "dunya ko apni nazar se dekho, apne ap ko dunya ki nazar se na dekho". It was amazing.