اتُھمان سےملتے وقت اُسکا دل بے چین تھا مگر میرال کہ چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خوش تھا. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“ماضی کی پرچھائی میں جینے والے زندہ دفن ہو جاتے ہیں لیکن یادیں ہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جہاں انسان بالکل نہیں بدلتے، جذبات اَن کہے ضرور رہ جاتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں سچے ضرور ہوتے ہیں.”
“اپنا پراجیکیٹ مکمل کرلینے کے بعد وہ اَنکرہ (Ankara) چلا گیا.میرال اُتھمان کے خیالات اور خواب اکثر دل کے دروازوں پر دستک دیا کرتے تھے مگر وہ انہیں بند رکھنے کی کوشش کرتا تھا.”
“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“بونا اور لال پری ہر دم خوش رہتے اور زیادہ وقت تہہ خانے میں ہی گزارتے۔”
“بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔”
“اگر انکو پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ انکے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“گھوڑے کی ہنہناہٹ اور اس کا دو پیروں پر اچھل کر خوشی سے جھومنا نیلوفر کو حیران کررہا تھا، اور اسی لمحے نیلوفر نے امید رنگ کے پروں کی پھڑپھڑ اہٹ سنی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.