اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“اپنا پراجیکیٹ مکمل کرلینے کے بعد وہ اَنکرہ (Ankara) چلا گیا.میرال اُتھمان کے خیالات اور خواب اکثر دل کے دروازوں پر دستک دیا کرتے تھے مگر وہ انہیں بند رکھنے کی کوشش کرتا تھا.”
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
“میرال کے والد استنبول کے ایک اچھے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک تھے.وہ اُسکی بینڈ میمبر کی دوست تھی اور اُسکی کی ینیورسٹی سے آرکیٹیکٹ کررہی تھی.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“کیونکہ دونوں تاروں کو ایک ہی وقت میں چھونے کے باعث سرکٹ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ پرندوں کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔”
“باپ کی بروقت مداخلت سے بہن کی عزت تو بچ گئی پر صدمہ باپ کی جان لے گیا۔”
“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”
“مجھے لگا موت کا گھوڑا بڑی تیزی سے میری طرف دوڑتا چلا آرہا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.