اپنا پراجیکیٹ مکمل کرلینے کے بعد وہ اَنکرہ (Ankara) چلا گیا.میرال اُتھمان کے خیالات اور خواب اکثر دل کے دروازوں پر دستک دیا کرتے تھے مگر وہ انہیں بند رکھنے کی کوشش کرتا تھا. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“میرال کے والد استنبول کے ایک اچھے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک تھے.وہ اُسکی بینڈ میمبر کی دوست تھی اور اُسکی کی ینیورسٹی سے آرکیٹیکٹ کررہی تھی.”
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
“اتُھمان سےملتے وقت اُسکا دل بے چین تھا مگر میرال کہ چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خوش تھا.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“اگر تم صبح سویرے اٹھو اور سورج کی پہلی کرن جو زمین پر پڑتی ہے اس کے ساتھ دوڑنا شروع کردو تو اس پل کے پیچھے ایک خفیہ دروازہ ہے، جو اس دنیا سے الگ دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔”
“اس عشقِ حقیقی کی شمع دل میں جل اٹھے تو وہ طور کو بھی راکھ کر دیتی ہے۔”
“اس کے باوجود اس کے باوجود میں خاموشی سے اٹھتا ہوں اور اپنی ای در یک کو دریا میں ڈال دیتا ہوں۔”
“ابھی میں راستے میں ہی تھا کی ٹریفک جام ہوگئی، ٹریفک کہ اژدہام میں گاڑیوں کے شدید شور سے اکتا کر میں نے بھیڑ میں ہی گاڑی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.