ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔ — Syed Bilal Pasha, تم مٹ نہیں سکتے Copy Share WhatsApp
by Syed Bilal Pasha
Contemporary Fiction · 21 pages
“ویسے یہ دادی کی رفاقت اور ان کے ساتھ بول چال کا اثر تھا کہ مجھ جیساآٹھ سال کا شہری بچہ، دہلیز جیسے الفاظ بے تکلف اپنے جملوں میں استعمال کرتا ۔”
“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“جب جبرائیل گھر پہنچا، تو آج اس کی ماں اور بہن کی جگہ اس کا باپ اس کا انتظار کر رہا تھا،کیونکہ وہ ایک بگڑے بچے کو سبق سکھانے کے لیے تنہائی چاہتا تھا۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
“اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔”
“’میں دنیا کو بدلنے کا عزم رکھتا ہوں سر!مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب آپ کو اور میرے والدین کو مجھ پر فخر ہوگا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.