میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔ — Syed Bilal Pasha, تم مٹ نہیں سکتے Copy Share WhatsApp
by Syed Bilal Pasha
Contemporary Fiction · 21 pages
“دادا جان کے ساتھ ہمیں زیادہ وقت نصیب نہیں ہوا، وہ میرے بچپن میں ہی رب کے ہاں چلے گئے تھے۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“ویسے یہ دادی کی رفاقت اور ان کے ساتھ بول چال کا اثر تھا کہ مجھ جیساآٹھ سال کا شہری بچہ، دہلیز جیسے الفاظ بے تکلف اپنے جملوں میں استعمال کرتا ۔”
“قہر سماء ہے غریب دل کاعقل سے خالی ، سمجھ سے عاریسوال ڈھیروں، جواب ناہیںجواب دے..”
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
“محبت اذیت دیتی ہے، جلاتی ہے تڑپاتی ہے، پر اب خود پر بیتی تو پتا چلا کہ محبت بدلہ بھی لیتی ہے، انتقام لیتی ہے،بس روپ کوئی اور ہوتا ہے۔”
“ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.