’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔ — Maemuna Sadaf, خار/Khaar - Realistic Fiction Book Copy Share WhatsApp
by Maemuna Sadaf
Popular Fiction · 160 pages
“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
“اس میں اتنی جرات تھی ہی نہیں کہ یہ بتا پاتی کہ اس نے کال کیوں کی وہ کون سا وہم تھا یاڈر تھا جس نے ان کے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا۔”
“بدریکا کے لیے تو محبت ہی دکھ بن چکی تھی اس کے دل میں سوائے بد دعا کے اجمل شاہ کے لیے کچھ نہ تھا۔”
Maemuna Sadaf was born in Rawalpindi, Pakistan , grew up in Rawalpindi and achieved a degree of MBA (Finance) in 2008. Started Writing for Native language (Urdu) newspapers in 2013. As well as, Sta…
“آپ لوگوں نے دنیا کی آڑ میں اپنی کمزوری کو چھپایا اور اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا۔”
“جب تک آپا دکھتی رہیں وہ بھی گاڑی کی کھڑکی میں منہ رکھ کر بیٹھا رہا، پھر ڈرائیور کے کہنے پر منہ اندر کر کے کھڑکی بند کرلی۔”
“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”
“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.