میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔ — Noushaba Irfan, ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena Copy Share WhatsApp
by Noushaba Irfan
Biography · 362 pages
“سب لوگوں نے جس طرح ہمارے ڈرامے اور سیٹ کو سراہا تھا، وہ خوشی آج بھی دل و ذہن کے کسی کونے میں پڑی مسکراتی ہے اور زندگی میں کئی دفعہ تقویت کا باعث بنی ہے۔”
“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”
“خیر وقت کے ساتھ ساتھ یقیناً حالات کچھ بہتر ہوئے لیکن پھر بھی دنیا کی تمام تفریحات سے ابھی تک لطف اندوز ہونا میں ختم نہیں کر سکی۔”
نوشابہ عرفان ایک نئی مصنفہ ہیں۔ ان کا انداز منجھا، سادہ، رواں اور بےتکلف ہے۔ انھوں نے جامعۂ پنجاب سے ایجوکیشن اور جامعۂ کراچی سے اردو میں ماسٹرز کیا اور چھبیس سال بحریہ کالج این او آر ای ون کراچی…
“ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں.”
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“انکو شادی سے پہلے نہیں پتا تھا کہ ڈاکٹر سے شادی کریں گے تو وہ گھر تو نا بیٹھے گی؟ جس نوکری کی اجازت کا احسان جتا رہے ہیں اسی کی وجہ سے بچے ٹاپ کے سکول میں پڑھتے ہیں۔”
“ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.