اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری! — Atifa Zia, قصّہ تمام شُد / Qissa Tamam Shud Copy Share WhatsApp
by Atifa Zia
Poetry · 100 pages
“میں خود اِک شاعرہ ہوں،کس پائے کی اِس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں، لہذا لفظوں سے ایک تعلق ایک ناطہ ایک رشتہ بچپن سے لے کر اب تک میرے ساتھ بڑا ہوتا رہا ہے۔”
“رات کے تقریباً ۲ بجے اُن کی آنکھ کھلی تو وہ اتنے ترو تازہ ہو کر اٹھے کہ انھیں گمان گزرا کہ وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کی روح ہے جو بستر پر بیٹھی ہے۔”
“کائنات کے اثباتی پہلوؤں میں سب سے بڑا سچ محبت ہے جو ہستی اس کی اسیر ہو جاتی ہے وہ زمانے کو مسخر کر لیتی ہے۔”
An educationist with a passion for research who did her Masters in post colonial literature from Punjab University. She is best defined as a nation wide renowned bilingual public speaker who, being…
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
“اگر اُسے پتا چل جائے کہ وہاں بھیا دوسری برانچ چلا رہے ہیں تو شاید خوشی سے بے ہوش ہو جائے مگر اس کی خوشی ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے۔”
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.