لکھنؤ میں بھی پاکستانی تہذیب کی اندھی تقلید کی جاتی تھی جہاں جہیز یہ کہہ کر قانونی بنا دیا جاتا تھا کہ ماں باپ جو بھی دے رہے ہیں اپنی خوشی سے ہی تو دے رہے ہیں۔
— Rawish Ali Tirmizy, لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore
“ماریا خوش خوش اس کے پاس آئی وہ ظاہر ہمیشہ یونہی تو کرتی تھی جیسے ماریا کی ہر جیت کی خوشی ماریا سے زیادہ کشمالہ کو ہوئی ہو پر آج وہ مسکرا بھی نہ سکی۔”

“" "دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے،مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے۔”
