شروع میں تو شعریت تقریباً ہر تخلیقی اظہار میں استعمال کی جاتی رہی، جب نثر اور شاعری ایک دوسرے میں گندھے ہوئے رہے۔ — Saeed ul Hassan, Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book Copy Share WhatsApp
by Saeed ul Hassan
Poetry · 150 pages
“ایسی ہی کیفیت میں وہ دن بھر لوگوں میں رہ كے بھی تنہا رہتا ہے، اور پِھر خود ہی حیرت سے پوچھتا ہے۔”
“حالیہ سالوں میں، ارشد کے چند گیت(’ہم چرسی بھنگی ہیں‘،’میرے دیس میں ہیں امکان بہت‘، اور، ’سب پیسے کی گیم‘، اور ’میری قوم بڑی جزباتی‘) کافی مقبول ہوئے ہیں۔”
“(یہ نظم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ماں اور بچے کی صحت پر مبنی ملک گیر مہم ’امید سے آگے‘ کے لیے میری جانب سے وقف کردی گئی ہے۔)”
سعید کا ادب سے لگاؤ بہت پرانا ہے۔ جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے جن دنوں کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر سائنسز کو عملی زندگی میں کامیابی کا زینہ سمجھا جاتا رہا تھا، اِنھوں نے معاش…
“ردا کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں ، ردا نے اس کا شعر مکمل کیا۔”
“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”
“نثر کی محفل میں ان کی شرکت یقینی ہوتی ہے تاہم مشاعرے میں غزل یا مزاحیہ نظم سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔”
“شاعری صرف اظہار خیالات و جذبات کی مصوری ہے اور یہ کبھی بھی بالجبر نہیں ہوسکتی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.