ایسی حکمت عملی ممکن ہے ، جس سے زندگی کی تلخیوں کی شدت کم سے کم ہوجائے اور مسرتوں کارنگ زیادہ سے زیادہ نمایا ں ہوجائے ۔ — Irfan Mehmud, شخصیت کی تعمیر - Shaksiyat ki Tameer - Self Development Book Copy Share WhatsApp
by Irfan Mehmud
Self-Help/Motivation · 185 pages
“اسی خصوصیت کی وجہ سے بیدارخوابی کاعمل بہت مؤثر ہواکرتاہے اور اس عمل سے انسان خوشی اور سکون کی مطلوبہ کیفیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔”
“اگر کسی بات کا خوف یا اندیشہ لاحق ہے توفرار کی بجائے اس کازیادہ سے زیادہ وقت کے لئے سامنا کریں تاوقتیکہ ان جذبات کی ساری توانائی خرچ ہوجائے اور آپ پرسکون ہو جائیں۔”
“اس کے بعد دوستوں کی محفل میں جاپہنچتا ہےجہاں کسی صاحب کی تعریفیں ہورہی ہیں جو بہت ہی کم وقت میں ایک انتہائی کامیاب ڈاکٹر بن چکے ہیں۔”
“انسانوں کو مجھ سے یہ بھی شکایت ہے کہ جب میں ان کے گھروں کی چھت پر بیٹھ کرنغمہ سرا ہوتاہوں تو ان کے گھروں میں مہمانوں کی مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔”
“بھلا زندگی جیسے شعوری اورجذباتی تجربے کےبعد انسان اس سے پہلے جیسی کیفیت میں واپس کیسے جاسکتاہے؟ حتی ٰ کہ اگرموت کے بعد عدم بھی ہے تو یہ عدم زندگی سے پہلے کے عدم سے کچھ مختلف ہی ہوگا۔”
عرفان محمود کے مضامین میں فکر اور معلومات کا بیش بہا خرانہ موجود ہے۔ عرفان محمود نے گورنمنٹ کالج اٹک سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد بی ایڈ کیااورایجوکیشن کے شعبے سے منسلک رہے۔لکھنے کاشوق ا…
“اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان اس دور سے گزرتا ہے اور اس تجربے کو محسوس کرتا ہے۔”
“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”
“(آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ زہرہ گردیزی کے مقبوضہ وادی کے لیے تحریر کیے گے سچے جذبات) اگست کی ایک صبح آنکھ کھلی تو اپنی عارت کے مطابق ٹیلی ویژن کا دیدار فرض عین سمجھا۔”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.