دراصل اس کا دل ہمیشہ سے میوزیم و تاریخی جگہوں کی نسبت مالز اور amusement parks میں زیادہ لگتا ہے۔ — Numra Noor us Samad, Shehr Kinaray / شہر کنارے - Baku Travelogue Book Copy Share WhatsApp
by Numra Noor us Samad
Travelogue · 132 pages
“جہاں دن کے وقت قدرتی روشنی پورے کمپلیکس کو منور کر دیتی ہے، وہیں رات کے وقت جا بجا نصب لائٹ فکسچرز سے حیدر علی کلچرل سینٹر جگمگا اٹھتا ہے۔”
“حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے لیڈرز یہاں اتنے مشہور ہیں کے ايک عام شہری بھی ان کے ناموں سے واقف ہے۔”
“ویسے سیل سے شاپنگ میں کامیابی کے بعد جو دلی سکون اور مسرت کا احساس ہوتا ہے، اِسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔”
نمرہ نورالصمد کراچی کی رہائشی ہیں اور ان کی پہلی کتاب "شہر کنارے" درحقیقت ان کے سفر کی روداد ہے۔ اِنھوں نے اپنے تحریری سفر کا آغاز بلاگز کے ذریعے کیا لیکن ان کے نزدیک لکھنے سے زیادہ دلچسپ کام کتابی…
“گریجویشن میں اپنے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے علاقے بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔”
“اس پار قدرت کے جو حسین و جمیل نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں تب ہی اصل طور پر ان ٹیڑھی سڑکوں کا لطف معلوم پڑتا ہے۔”
“کائنات کے اثباتی پہلوؤں میں سب سے بڑا سچ محبت ہے جو ہستی اس کی اسیر ہو جاتی ہے وہ زمانے کو مسخر کر لیتی ہے۔”
“اگر ڈاکٹر اکبر نیدری اپنے درندے پر قائم رہتے تو ایک دن میں اس نایاب اسنے کو پہلی بار اپنے کامشن ادارة النقوش کو ہی حاصل ہوتا ۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.