زندگی کا یہ رنگ بھی اچھا ہے تنہائی کا احساس دن کو بھی دامن تھامے ہےاور رات تو کبھی کی تنہا ہے۔ — طُرشہ شبیر احمد, گلستانِ طُرشہ / Gulistan e Tursha Copy Share WhatsApp
by طُرشہ شبیر احمد
Poetry · 139 pages
“کبھی شب کی تنہائیوں میں تم میرے ساتھ ہوتے ہو، کبھی دن کی اداسیاں تمہاری یاد سے سنور جاتی ہیں۔”
مجھے ہمیرا شبیر کہتے ہیں۔ میرا نام طرشّہ شبیر میرے والد نے رکھا تھا۔ میں ۶ فروری۱۹۴۱ء کو ہندوستان کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئی۔ مجھے پڑھنے لکھنے کا بچپن سے ہی شوق تھا، میرے گھر کا ماحول بھی پڑھنے لکھ…
“اکثر لوگوں کے لیے شعر کہنا اور شاعری کرنا ایک مشغلہ رہا ہے، جو ہر مشغلے کی طرح باقی زندگی کے کاموں کے علاوہ، ایک اضافی چیز رہا ہے۔”
“شاعری صرف اظہار خیالات و جذبات کی مصوری ہے اور یہ کبھی بھی بالجبر نہیں ہوسکتی۔”
“میری شاعری تھوڑی درد بھری ہے، پر میں اللّہ کے فضل سے ہر قسم کی طبیعت کا مالک ہوں۔”
“ردا کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں ، ردا نے اس کا شعر مکمل کیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.