جدھر دیکھا اسے پایا جہاں پہنچے اُسے دیکھا یونہی اُلجھاتے رہے رات بھر ہم کو وہی سو درآج یادوں نے رُخ بدلا ہے اک محور نیا ڈھونڈا اُسی جانب ہی اُڑ چلے ۔۔
— Raafye Aziz, Dil Key Afsaany دل کے افسانے
“محبت کی اس داستان کو سمجھنے کے لیے بھی ایک گداز دل کا ہونا ضروری ہے، یا وہ جس نے کبھی محبت کو چھوا بھی ہو۔”

“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
