دل یہ سوچ کر اداس سا ہو گیا کہ زندگی کیسی بے رحم ہے — جس کے پاس ہے، اُس کے پاس بہت ہے۔ — Akash Khan, Musafir aur Manzile'n / مسافر اور منزلیں - Urdu travelogue book Copy Share WhatsApp
by Akash Khan
Travelogue · 1000 pages
“مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ بھی ریجیکٹ نہ ہو جائے، کیونکہ جو بھی پہلی بار ویزہ لگواتا ہے کسی بھی یورپی ملک کا، تو وہ ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔”
“ان کا گھر بہت خوبصورت تھا، اور ملک تو ویسے بھی بہت پیارا تھا۔”
“گھر کا کھانا، والدین کی موجودگی، بہن بھائیوں کی شرارتیں، یہ سب وہاں خواب لگتے تھے۔”
میں کوئی پیشے سے رائٹر نہیں ہوں نہ ہی مجھے اس فیلڈ میں کوئی تجربہ ہے۔ یہ سفرنامہ میں نے اپنی خوشی اور اپنی خوبصورت یادوں کو ایک کتاب کی شکل دینے کے لیے تحریر کیا ہے۔میں پنجاب کے ضلع اٹک کے ایک چھوٹ…
“زمین پر زندگی اس کے لیے بہت زیادہ موافق تو نہیں تھی لیکن اب اسے جینے کا ایک مقصد ضرور مل گیا تھا۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
“دسمبر کی شدید برف باری میں اپنے گھر کے گرم بستر پر ٹھٹھرتا ہوا، اکھڑتی سانس کے درمیان موت کی آہٹ سن رہا تھا۔”
“اگر تم صبح سویرے اٹھو اور سورج کی پہلی کرن جو زمین پر پڑتی ہے اس کے ساتھ دوڑنا شروع کردو تو اس پل کے پیچھے ایک خفیہ دروازہ ہے، جو اس دنیا سے الگ دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.