گیٹ سے اندر جاتے ہوئے ایسا لگا جیسے ہم کوئی بارڈر کراس کر رہے ہیں۔ — Akash Khan, Musafir aur Manzile'n / مسافر اور منزلیں - Urdu travelogue book Copy Share WhatsApp
by Akash Khan
Travelogue · 1000 pages
“لوگ جب مشورے مانگتے، تو میں نہ صرف راستہ بتاتا، بلکہ حوصلہ بھی دیتا۔”
“مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ بھی ریجیکٹ نہ ہو جائے، کیونکہ جو بھی پہلی بار ویزہ لگواتا ہے کسی بھی یورپی ملک کا، تو وہ ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔”
“ان کا گھر بہت خوبصورت تھا، اور ملک تو ویسے بھی بہت پیارا تھا۔”
میں کوئی پیشے سے رائٹر نہیں ہوں نہ ہی مجھے اس فیلڈ میں کوئی تجربہ ہے۔ یہ سفرنامہ میں نے اپنی خوشی اور اپنی خوبصورت یادوں کو ایک کتاب کی شکل دینے کے لیے تحریر کیا ہے۔میں پنجاب کے ضلع اٹک کے ایک چھوٹ…
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
“نہ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑنا چاہتا تھا اور نہ ہی فائزہ کو کیونکہ جو بھی تھا فائزہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔”
“آپ لوگوں نے دنیا کی آڑ میں اپنی کمزوری کو چھپایا اور اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا۔”
“جب ہمارے یہاں شوہر کے گھر عدت کی مدت گزار نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ طلاق کے آثار نظر نمودار ہور ہے ہوں اس وقت ہی مرد کا گھر چھوڑ دیتی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.