اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔ — Zainab Taqvi, اصل داستان تم ہو / Asal Daastan Tum Hu Copy Share WhatsApp
by Zainab Taqvi
Fiction · 30 pages
“"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“'محبت میں اگر رقیب آ جائے تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے' کا مفہوم اسے آج سمجھ آیا تھا اور وہ حیدر کے اس منصوبے پر اس سے سخت خفا تھی۔”
“’میں دنیا کو بدلنے کا عزم رکھتا ہوں سر!مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب آپ کو اور میرے والدین کو مجھ پر فخر ہوگا۔”
“اس کے دل و دماغ میں موجزن کوئی عجب سی خوشی و خرسندی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے صاف عیاں تھی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.