دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔ — Gul Arbab, فسوں کدہ / Fasoon Kada Copy Share WhatsApp
by Gul Arbab
Religious · 48 pages
“اسی لمحےشاید میری کشمکش سے با خبر رانو کہیں سے آ گئی تھی کیونکہ پیچھے سے کندھے پر ایک ریشمی ہاتھ کا لمس مجھے احساس دلا رہا تھا کہ رانو مجھے حوصلہ دے رہی ہے۔”
“اصراف میرے رب کوپسند نہیں اس لیے میں وہ کام کرتی ہوں جس میں میرا رب خوش ہو اور وہ ہے تحفہ دینا، میرا تو اس بھری دنیا میں سوائے آپ کے کوئی اور ہے ہی نہیں۔”
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
گل ارباب کا تعلق خیبر پختونخواہ پشاور سے ہے ۔۔ لکھنے کی ابتدا انھوں نے بچوں کی کہانیوں سے کی پھر شاعری کالم نگاری افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ۔ کئی ڈائجسٹسس اور ادبی میگزینز م…
“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”
“ہاں وہاں ایک بڑا نِیم کا درخت بھی تھا جو کہ بڑی خوشی سے ہَوا میں جُھوم رہا تھا.”
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.