ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔ — Mubashra Khan, داستان اِک نئی / Daastan Ik Nayi - Fantasy Story Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Mubashra Khan
Fantasy · 45 pages
“مجھے لگا موت کا گھوڑا بڑی تیزی سے میری طرف دوڑتا چلا آرہا ہے۔”
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”
.
“رقم دیوان میر اور دوسری نایاب تخلیقات کو ادارة نقوش لاہور سے اس سے شائع کرانا چاہتا تھا کہ اس کے ایٹمی طفیل صاحب نھیں لوگ فرش بھی کرتے ہیں ۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔”
“اگر ساری دنیا ہی ہماری ہوتی تو کون ہمیں تنگ کرتا ؟ کون ہم سے نفرت کرتا؟ ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.