جنّت، سلمان کے خیال کے لطف و سرور اور فراق کے خوف اور وسوسوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی کہ اسی اثناء میں سلمان کا مسکراتا چہرہ گلی والے دروازے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔
— Fiza Baloch, Rah-e-Wasl (راہِ وصل) - Spiritual Novel in Urdu
“"احسان فراموش باقیوں سے تو بہتر ہی ہیں سرعام عزتیں پامال نہیں کرتے اپنی" وہ طنزیہ مسکرائی اور ساتھ ہی بیگ گھسیٹے گھر کی دہلیز پار کر گئی.”

“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”
