بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔
— Fatimah Ambreen, یقین ساحل گماں سمندر
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”

“ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔”
