میری پہلی کتاب کا انتساب میرے عظیم والدین کے نام جن کی دعائیں ہمیشہ میرا پیچھا کرتی ہیں۔ — Sarah Omer, ایک اور زویا / Aik aur Zoya- Social Issue & Awareness Novel for Girls Copy Share WhatsApp
by Sarah Omer
Contemporary Fiction · 15 pages
“اللہ تعالی زویا اور اس جیسے درد دل رکھنے والے لوگوں کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے(آمین)۔”
“علاقہ مکین بھی اس پراسرار روح کو پسند کرنے لگے تھے جو ان کے بچوں کی حفاظت کر رہی تھی۔”
“'اگر میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ کیا میں ان کی حفاظت کر پاؤں گی؟ کیا میں ان کو تحفظ دے سکوں گی؟' اس کے ذہن میں ہر وقت خوف کےسائے منڈلاتے۔”
“شادی کے بعد زویا اپنے والدین کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی کیونکہ ارمغان کے والدین امریکہ میں رہتے تھے اور زویا ارمغان یہاں اکیلے۔”
“کچھ پڑھ جاتی تو اس کی ماں کو بھی سکھ نصیب ہوتا لیکن کوئی درندہ کسی کو چیرنے پھاڑنے سے پہلے پوچھتا تھوڑی ہے کہ تم لواحقین میں کسے چھوڑے جا رہے ہو؟ ایک بے بس بیوہ ماں کو۔”
Holds a masters degree in special education from Punjab University Lahore. I am passionate about writing Urdu short stories and novels on social issues.
“خدا کی محبت کو تنہائی اور خاموشی میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے اس لیے جب بھی زندگی میں تنہائی محسوس کرو تو اسے ربّ سے ملنے کا موقع تصوّر کرنا۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
“ترجمہ: کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔”
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.