کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔
— Monaa Sohail, اک کرن اندھیروں میں / Ik kiran andhero'n mai- Childhood Trauma Book
“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”

“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”

“اگر وہ کسی کارواں سے الگ ہو بھی جاۓ تو بھی اس میں محبت اور ایمان کی ایسی regenerative power ہوتی ہے کہ پھر سے ایک کارواں بنا لیتا ہے۔”

“مگر جن کو سب کچھ مل جائے اور ان میں کچھ پانے کی خواہش اور کچھ کھو دینے کا ڈر باقی نہ ہو وہ بھی تو بد روحیں ہی ہیں بلکہ مردہلاشیں!”
