خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔
— Afraz Jabeen, چاکلیٹ / Chocolate- Book About Childhood Trauma
“لال پری نے روبا، نوبا کو کاہلی، سستی اور مقررہ وقت پر کام نہ کرنے کی ایسی سزا دی کہ پورا غار خون کے آنسوؤں سے ڈوب گیا۔”

“پیش لفظ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ادارے یا ناشر نے تصوراتی صنفِ ادب میں ملکی سطح پر مقابلہ منعقد کرنے کی سعی نہیں کی۔”

“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”

“اس کا ذاتی خیال تھا کہ جب کسی انسان سے کوئی بہت بڑی غلطی ہو جاتی ہے تو اللہ سزا کے طور پر اس کے گھر ہیجڑا پیدا کر دیتا ہے۔”
