مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے . — Bookay Crew, Bookay 2018 Copy Share WhatsApp
by Bookay Crew
Anthology · 100 pages
“مگر جن کو سب کچھ مل جائے اور ان میں کچھ پانے کی خواہش اور کچھ کھو دینے کا ڈر باقی نہ ہو وہ بھی تو بد روحیں ہی ہیں بلکہ مردہلاشیں!”
“There are many different kinds of confusionsBut the one that arises in your heart when you don't know the bad from the worstIs the scariest.”
“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”
“اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی.”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“(شکر ہے اس وقت ہم گھر میں نہ تھے ورنہ امی کا فلائنگ چپل میرا مقدر ہوتا۔”
“جیسے ہی میں کیبن نمبر ۸ کے قریب پہنچا تو دروازے پر لکھا ۸ کا ہندسہ دیکھ کر میں مسکرایا اور اطمینان کے ساتھ دروازہ کھولا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.