اللہ اور قرآن کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوتا ہے وہ ہمارے لیے نہیں بدلتے ہم ان کے لیے بدلتے ہیں۔ — Tehreem Arshad, Safar Mei Hamsafar Copy Share WhatsApp
by Tehreem Arshad
Contemporary Fiction · 700 pages
“ملکائیں کسی پہ منحصر نہیں ہوتیں، ان کا جدھر جدھر دل چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے وہ جاتی ہیں جو دل کرتا ہے کرتی ہیں۔”
“زندگی تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہے لیکن اگر اس زندگی میں عزت نہیں تو اس زندگی سے موت اچھی ہے۔”
“"واؤ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ؟ کیا میں واقعی پاکستان میں ہوں ؟" جیسے ہی جہاز لینڈ ہوا ایک دم پورے جہاز میں آواز گونجی۔”
“ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔”
“سب کے دلوں میں ایک امید کی کرن تھی کہ انشاءللہ اب پاکستان میں آغاز تبدیلی کا سورج نکلے گا .”
“متبادل مستقبل کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب نیا معروض کھڑا کرنے کے لیے اس بنیاد کو بدلا جاۓ گا جس پر موجودہ معروض کا پورا ڈہانچہ کھڑا ہوا ہے۔”
“اپنی آرزوؤں کو پامال کرنا، اپنی خودی کو فنا کرنا، الله اور اس کے رسول ﷺسے محبت کا عملی ثبوت دینا کوئی آسان کام نہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.