ملکائیں کسی پہ منحصر نہیں ہوتیں، ان کا جدھر جدھر دل چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے وہ جاتی ہیں جو دل کرتا ہے کرتی ہیں۔ — Tehreem Arshad, Safar Mei Hamsafar Copy Share WhatsApp
by Tehreem Arshad
Contemporary Fiction · 700 pages
“اس پار قدرت کے جو حسین و جمیل نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں تب ہی اصل طور پر ان ٹیڑھی سڑکوں کا لطف معلوم پڑتا ہے۔”
“"واؤ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ؟ کیا میں واقعی پاکستان میں ہوں ؟" جیسے ہی جہاز لینڈ ہوا ایک دم پورے جہاز میں آواز گونجی۔”
“اللہ اور قرآن کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوتا ہے وہ ہمارے لیے نہیں بدلتے ہم ان کے لیے بدلتے ہیں۔”
“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔”
“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.