بیلما غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھی،اسی لمحے رومی نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ،جس سے وہ تہہ خانے کی چھت سے جا ٹکرائی اگلے پل وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔ — Diya Khan, Jang-e-belma O Roman / جنگ بیلما ورومان Copy Share WhatsApp
by Diya Khan
Fiction · 38 pages
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“اس رات کے بعد کچھ دن تک گاؤں میں خوف اور اداسی کی چادر تنی رہی لیکن جب پھر سے کوئی ایسی ناگہانی نہ ہوئی تو سب کچھ اپنے معمول کے مطابق ہونے لگا تھا۔”
“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”
“محبت کی اس داستان کو سمجھنے کے لیے بھی ایک گداز دل کا ہونا ضروری ہے، یا وہ جس نے کبھی محبت کو چھوا بھی ہو۔”
“ہر محبت کا انجام ایک جیسا ہو،ملن ہو تو ہی وہ محبت امر ہوتی ہے ورنہ محبت ہوتی نہیں، ایسا نہیں۔”
“محبت اذیت دیتی ہے، جلاتی ہے تڑپاتی ہے، پر اب خود پر بیتی تو پتا چلا کہ محبت بدلہ بھی لیتی ہے، انتقام لیتی ہے،بس روپ کوئی اور ہوتا ہے۔”
“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”
“اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بالکل اسی طرح جیسے مجھے کبھی موت نہیں آسکتی۔”
“آپ لوگوں نے دنیا کی آڑ میں اپنی کمزوری کو چھپایا اور اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا۔”
“دسمبر کی شدید برف باری میں اپنے گھر کے گرم بستر پر ٹھٹھرتا ہوا، اکھڑتی سانس کے درمیان موت کی آہٹ سن رہا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.