Pakistani humour is usually dry and usually pointed at something serious. Almost nothing here is a joke; it is what people say instead of complaining.
Our authors, in their own words and in the press.
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.