ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“ویسے سیل سے شاپنگ میں کامیابی کے بعد جو دلی سکون اور مسرت کا احساس ہوتا ہے، اِسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔”

“اگر اُسے پتا چل جائے کہ وہاں بھیا دوسری برانچ چلا رہے ہیں تو شاید خوشی سے بے ہوش ہو جائے مگر اس کی خوشی ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے۔”

“ایسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں، اور جب چلے جاتے ہیں تو اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں، بلکہ محبت، علم، اور کردار کی روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔”

“یقینا الہامِ عشق کا سلسلہ رکا نہیں مگر اشعار کی آمد کا سلسلہ رک گیا ہے یا یوں کہیں کہ روک دیا گیا ہے۔”

“اسے محسوس ہوا کہ شاید قسمت اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کر رہی ہے جہاں دل اور ذمہ داری ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔”

“اللہ کی حاکمیت ، اس کے تحت رونما ہونے والی مساوات اور شرکت مقاصد ، عصمت کی حفاظت اور محبت اور رحمت کے بعد چوتھی بنیاد عدل و انصاف ہے۔”

“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیئے”دُم دار ستارہ“بن جاؤ!(دُمدار ستارے کی جو بھی توضیح ہو)وہ لمحے بھر کے لیئے وارفتگی، استعجاب، اُمید اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔”

“انسان کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے، جس نے اپنے وقت کو کامیابی سے استعمال کیا وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ گیا۔”

“بھوکا، پیاسا انسان جس کی منزل صرف موت ہے اور انسان کو لگتا ہے ابھی بہت سارا وقت پڑا ہے پر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی کے صحرا میں منزل کےنام پر دھوکے زیادہ ہوتے ہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so