یہاں ہمت شاذ ہی ڈرامائی ہے۔ ان کتابوں میں یہ عموماً ایک خاموش فیصلہ ہے، کسی ذاتی قیمت پر، ایسے شخص کا جس کے پاس خاموش رہنے کا راستہ موجود تھا۔
“اِس کے علاوہ آن لائن رائٹنگ کمپیٹیشنز میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں اور اپنے قلم کو مزید طاقت بخشنے کے لیے سوشل میڈیا پیجز چلاتی ہیں۔”

“انہیں جھنجھوڑتا ہے، جگاتا ہے، ذلت کے دلدل سے نکل کر باوقار انداز میں مٰن جینے کا حوصلہ اور سلیقہ سکھاتا ہے۔”

“ہمارا ہر لمحہ وہ ڈر محسوس کرنا وادی والوں کے ایک لمحے کہ برابر ہے کیونکہ وہ اس خوف میں جی رہے ہیں.”

“بارڈر پر ایجنٹوں کے کارندے ان کی جامع تلاشی لیتے اور کاغذ نام کی ایک بھی چیز ان کے پاس نہیں رہنے دیتے۔”

“انکا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح انکی بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنی جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“آپکی انفرادیت جدید فلسفیانہ رجحانات و مباحث کو اپنی نثری و آزاد نظموں میں منتقل کرنا اور اپنے معروض کے مسائل پر بلاخوف تبصرہ ہے۔”

“اپنے رب کی تخلیق کو کیسے الزام دے سکتے ہیں، وہ بھی صرف لوگوں کے ڈر سے؟ اگر ڈرنا ہے تو اس رب سے ڈریں جس کی نعمت کی آپ نے ناشکری کی۔”

“اللہ سے محبت کرے وہ رحمان ہے اُسکے ۹۹ ناموں میں سے ۸۹ رحمت والے ہیں اور صرف جلا١ والا ہے اب فیصلہ آپ کریں کے اللہ سے ڈرنا ہے کے پیار کرنا ہے۔۔”

“اسی لمحےشاید میری کشمکش سے با خبر رانو کہیں سے آ گئی تھی کیونکہ پیچھے سے کندھے پر ایک ریشمی ہاتھ کا لمس مجھے احساس دلا رہا تھا کہ رانو مجھے حوصلہ دے رہی ہے۔”

“''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔”

“ڈسٹرکٹ کمانڈر بڈگام رہ چکے ہیں اور اس وقت وہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں, بھارتی فوج نے ان کے مکان کو بھی بارود سے اڑا دیا ہے۔”

“میری بیداری تک تیرا ساتھ اچھا ہےمجھے نیند میں رہنے دو، سب اچھا ہےزندگی تکمیل پذیر بس تیری آغوش میںخوف و فکر نہیں خرؔم!”

“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”

“جب مجھے ان سے کوئی مسئلہ نہیں تو آپ کو کیوں ہے ؟ جب میں ان کی ذمہ داری سے نہیں ڈر رہی تو آپ نے کون سا انھیں جہیز دینا ہے ؟ ذرا سوچیں!”

“ان کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ان کا بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنے جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“'اگر میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ کیا میں ان کی حفاظت کر پاؤں گی؟ کیا میں ان کو تحفظ دے سکوں گی؟' اس کے ذہن میں ہر وقت خوف کےسائے منڈلاتے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
In this Daastan interview, Khalid Salamat shares his journey, decades in consumer marketing, and how life shapes his writing.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.