زیادہ تر واقعے کے قریب سے لکھا گیا۔ یہ محفوظ فاصلے سے کیے گئے تبصرے نہیں — ان میں کئی کتابیں وہ راستہ تھیں جس سے ان کے مصنفین نے وہ سال گزارا جو وہ بیان کر رہے ہیں۔
“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“جب کسی دل سے محبت بھرے جذبات کے سارے رنگ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ دل اس بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تنہائی کے بعد کی دنیا تو اور بھی بھیانک ہے۔”

“میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں میرے پاس تو الفاظ بھی نہیں ہیں میری خدا سے دعا ہے کہ مجھے آپ جیسا ہمدرد دل عطا کرے جو دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت بے تاب رہتا ہے۔”

“اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!”

“اماں کے پیٹ درد کا ان دونوں کے سامنے بھی یقیناً تذکرہ کیاگیا ہوگا، مگر کسی نے بھی کوئی ایسی تجویزنہ دی کہ انھیں ہاسپٹل لے جانے کی ضرورت ہے۔”

“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”

“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”

“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”

“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”

“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”

“بیلما غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھی،اسی لمحے رومی نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ،جس سے وہ تہہ خانے کی چھت سے جا ٹکرائی اگلے پل وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔”

“میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔”

“بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔”

“کیونکہ دونوں تاروں کو ایک ہی وقت میں چھونے کے باعث سرکٹ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ پرندوں کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔”

“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
LAHORE: The launching ceremony of a book titled "From Partition to Pioneer”, "focusing on the life and services of...
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan