اردو کے پاس اس کے لیے انگریزی سے زیادہ باریک الفاظ ہیں۔ جدائی اور دل ٹوٹنا ایک نہیں، فراق اور نقصان ایک نہیں۔ نیچے دی گئی سطریں یہ فرق جانتی ہیں۔
“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“جب کسی دل سے محبت بھرے جذبات کے سارے رنگ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ دل اس بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تنہائی کے بعد کی دنیا تو اور بھی بھیانک ہے۔”

“جب دل ٹوٹے تو انسان کسی نہ کسی طرح خود کو سنبھال ہی لیتا ہے، پر جب روح تار تار ہو جائے تو ایک بار تو انسان مر ہی جاتا ہے۔”

“کچھ پڑھ جاتی تو اس کی ماں کو بھی سکھ نصیب ہوتا لیکن کوئی درندہ کسی کو چیرنے پھاڑنے سے پہلے پوچھتا تھوڑی ہے کہ تم لواحقین میں کسے چھوڑے جا رہے ہو؟ ایک بے بس بیوہ ماں کو۔”

“دھوکا پتہ نہیں کس کو دے رہا ہوں میں؟ گھر پر بھی تو میں اکیلا ہی ہوں- تو اس پگڈنڈی پر ہر شام سیر کرنے کیوں آتا ہوں؟ گھر میں تنہائی چھوڑکے اکیلاپن ڈھونڈنے؟ یہ بھی کیا اداس واڈامبنا!”

“بادشاہ نے شہزادے کی محبت میں یہ بات بالکل نظر انداز کر دی کہ شہزادہ ریاست کے امور سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ ہر وقت اپنے باغیچے میں تنہا وقت گزارتا۔”

“آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔”

“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”

“نیک برخوردار کے نامزدہ جنگل کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کے من میں دن بھر کے واقعات پر ذہنی تبصرہ کرنے لگا- صبح، دوپہر، شام، سب ایک ہی کھچڑی میں مل گئے- 'یہ بھی چھوڑو یار!”

“جنّت، سلمان کے خیال کے لطف و سرور اور فراق کے خوف اور وسوسوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی کہ اسی اثناء میں سلمان کا مسکراتا چہرہ گلی والے دروازے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔”

“گو کہ ایک باپ کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی سوہان روح تھی مگر ایک دیانتدار بادشاہ کے لیے یہ کٹھن فیصلہ کرنا ضروری تھا۔”

“جب ہمارے یہاں شوہر کے گھر عدت کی مدت گزار نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ طلاق کے آثار نظر نمودار ہور ہے ہوں اس وقت ہی مرد کا گھر چھوڑ دیتی ہے۔”

“نہ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑنا چاہتا تھا اور نہ ہی فائزہ کو کیونکہ جو بھی تھا فائزہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔”

“جلد ہی بازار کے شور نے مجھے متوجہ کیا اور میں شاپنگ چھوڑ کر گھر واپس آگئی کہ اب کچھ اور خریدنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔”

“جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔”

“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Artist: Art of Healing and Power of Love, is written by Zainab Manzoor who is a researcher by profession, however, practices writing and painting as a hobby. This book is a creative amalgamation of both of her hobbies, which educates the readers both visually and linguistically. She can be found playing with words and colors […]
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
Read Waqas Abdullah's story behind Colonial Words, his journey, inspiration, and bold views on language and global power in detail
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے