امید، اُن لوگوں کی لکھی ہوئی جن کے پاس مایوس ہونے کی وجہ موجود تھی۔ پاکستانی ادب امید سستے داموں نہیں بیچتا، اور یہی ان سطروں کو قیمتی بناتا ہے۔
“تذلیل گوارا کر لینے کے عوض دو وقت کی روکھی سوکھی توان تینوں کو آسانی سے دستیاب ہوجاتی مگر عزت نام کی کوئی چیزان کے آس پاس بھی نہ پھٹکتی ۔”

“سماجی سائنسی علوم کے استقبالی پہلو میں دلچسپی رکھنے والے محقیقین سہیل عنائت للہ کے نام سے یقینناؑ آگاہ ہوں گے۔”

“کتاب لکھنا یا مصنِف بننا کبھی بھی میرا خواب یا مقصد نہیں تھا، مگر بعض اوقات اِنسان کے حالات اُس سے وہ بھی کروا لیتے ہیں جس کی اُس نے نہ کبھی خواہش کی ہوتی نہ سوچا ہوتا ہے۔”

“دماغی طور پر بھی ایسے مریض اپنی جنس کے بارے میں بے یقین ہوتے ہیں اسی وجہ سے ان میں خواجہ سرا ہونے کا رسک بھی ذیادہ ہوتا ہے ۔”

“ہانیہ کو یقین تھا کہ بچے کی پیدائش پراس کے گھر والوں کا دل ضرور پگھلے گا لیکن اس کے میکے والوں نے اس موقع پر بھی کوئی خاص گرم جوشی نہ دکھائی۔”

“"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔”

“ایک روز اس نے خواب دیکھا کہ ایک خوبصورت شاہی سواری میں اس کا ولی عہد پوری شان و شوکت کے ساتھ وطن واپس آ رہا ہے۔”

“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”

“کوئی اندر داخل ہوا تھا اندھیرا روشنی پر غالب آ گیا تھا اسے آنے والے کے وجود کا احساس تھا مگر وہ شناخت نہیں کرپارہی تھی !”

“معروض کے تجزیے اور متبادل مستقبل کی تشکیل کے لیے سہیل کا ''علتی تہوں کے تجزیے کا نظریہ'' ایک بہت دلچسپ طریقہ کار ہے جو اپنے معروض کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔”

“"جی کروں گی آج بات مسسز نبیل کا بھی دو بار فون آ چکا ہے انہیں بھی یقین نہیں آ رہا کہ انکار بھی ممکن تھا ،کہہ رہیں تھیں شاید کوی غلط فہمی ہوئی ہے"،آمنہ نے جواب دیا۔”

“"واؤ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ؟ کیا میں واقعی پاکستان میں ہوں ؟" جیسے ہی جہاز لینڈ ہوا ایک دم پورے جہاز میں آواز گونجی۔”

“اپنی آرزوؤں کو پامال کرنا، اپنی خودی کو فنا کرنا، الله اور اس کے رسول ﷺسے محبت کا عملی ثبوت دینا کوئی آسان کام نہیں۔”

“ہم جادو سے سبھی کچھ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن وہ ذات جو اس زمین اور آسمان کی مالک ہے، ان کے درمیان موجود ہر شے کی خالق و مالک ہے، وہ ہر شے پر قادر ہے۔”

“دیکھتے ہی دیکھتے ساری پریاں روشنیوں کے ہالوں میں تبدیل ہو گئیں اور مانٹاہرین کا آسمان روشنیوں میں نہا گیا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
Maria Maqsood shares her journey as a first-time author, the magic of Phantusia, and what inspired Whispers of the Valley's Phoenix Series.
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.
Lahore: The death of one of the pioneers in neurosurgery in Pakistan, Prof Bashir Ahmed, was widely mourned in the...
Explore Dr. Shahbaz Ahmed Shahzad's research journey and his book on Artificial Intelligence in Modern Warfare in this author interview.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.