ان لکھنے والوں نے اپنے ملک کے بارے میں کیا دیکھا — طبقہ، خاندان، کس کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ یہیں شائع ہوا ہے، باہر نہیں، اور یہ بدل دیتا ہے کہ مصنف کیا کہنے کو تیار ہے۔
“(یہ نظم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ماں اور بچے کی صحت پر مبنی ملک گیر مہم ’امید سے آگے‘ کے لیے میری جانب سے وقف کردی گئی ہے۔)”

“انکا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح انکی بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنی جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“اگر ساری دنیا ہی ہماری ہوتی تو کون ہمیں تنگ کرتا ؟ کون ہم سے نفرت کرتا؟ ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔”

“اپنے رب کی تخلیق کو کیسے الزام دے سکتے ہیں، وہ بھی صرف لوگوں کے ڈر سے؟ اگر ڈرنا ہے تو اس رب سے ڈریں جس کی نعمت کی آپ نے ناشکری کی۔”

“دروازے سے چھد کے باہر آتی روشنی نہ اپنا عقیدہ بتا سکتی تھی اور نہ یہ کہ وہ ایک غریب غیر مسلح دیہاتی کے گھر کے دیے کی روشنی ہے۔”

“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”

“ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔”

“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”

“جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔”

“اسلام باہمی کشمکش اور مسابقت کے بجائے مرد و عورت کے در میان محبت افہام تفہیم اور مستقل ہمدردی کو عائلی زندگی کی اساس بناتا ہے۔”

“پسِ نوشت : ۱۹۹۵ء میں ٹاڈا قانون ختم ہونے کے بعد وزیرِ اعظم شری نر سمہا راؤ نے اظہارِ خوشی میں پرائم منسٹر ہاؤس ، دلی میں اخباروں کے مدیروں کو ڈنر دیا۔”

“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”

“ان کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ان کا بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنے جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“اس سے متعلقہ ایک بہت سنگین اور دلخراش سچائی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر 4 میں سے 2 بچے جبکہ ہر 5 میں دو بچیاں کسی نہ کسی طریقے سے sexual harassment کا شکار ہوتی ہیں۔”

“لکھنؤ میں بھی پاکستانی تہذیب کی اندھی تقلید کی جاتی تھی جہاں جہیز یہ کہہ کر قانونی بنا دیا جاتا تھا کہ ماں باپ جو بھی دے رہے ہیں اپنی خوشی سے ہی تو دے رہے ہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
Read an in-depth blog on Hamood Butt, trader and market analyst, sharing real trading strategies, insights, & market psychology.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.