ان کتابوں کے کرداروں نے کامیابی کو آخر کیا سمجھا — اکثر وہاں پہنچنے کے بعد جسے وہ پہلے کامیابی سمجھتے تھے۔ اس میں جیت سے زیادہ صبر کا ذکر ہے۔
“ایسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں، اور جب چلے جاتے ہیں تو اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں، بلکہ محبت، علم، اور کردار کی روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔”

“انسان کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے، جس نے اپنے وقت کو کامیابی سے استعمال کیا وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ گیا۔”

“اس فانی اور موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اختیار حاصل کرنا صرف تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنی روحانی اور جسمانی خواہشات پر قفل لگائیں، اس لئے ہمیشہ قرآنی تعلیمات کی پیرو ی کریں۔”

“زندگی میں پیسہ کمانے سے زیادہ اہم اپنی زندگی کے مقصد کو تلاش کرنا اور اس کے راستے پر جتنی جلدی ہو سکے روانہ ہوناہے۔”

“نماز ہم میں ایک ایسی خوبصورت عادت کو پروان چڑھاتی ہے جس سےہم وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔”

“اسی خصوصیت کی وجہ سے بیدارخوابی کاعمل بہت مؤثر ہواکرتاہے اور اس عمل سے انسان خوشی اور سکون کی مطلوبہ کیفیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔”

“میں دل سے یقین رکھتا ہوں کہ آج جو کچھ بھی ہم ہیں، وہ ہمارے والد اور والدہ (نسیم مشتاق) کی تربیت، دعاؤں، قربانیوں اور محنت کا نتیجہ ہے۔”

“ہمیشہ دوسروں کو دیکھ کر زیادہ کی خواہش مت کرنا ہاں اپنے مقصد میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو حاصل کرتے رہنا جو آپ کو منزل تک لے جانے میں مددگار رہیں۔”

“نمازکا مقصد دن کو تقسیم کرکے اس کے استعمال کو یقینی بنانا، اللہ تعالی سے اپنے مشن پر قائم رہنے کی دعا اور مدد حاصل کرنے کا ذریعہ فراہم کرنا اور جسم کو صحت مہیا کرنا ہے۔”

“اگر ڈاکٹر اکبر نیدری اپنے درندے پر قائم رہتے تو ایک دن میں اس نایاب اسنے کو پہلی بار اپنے کامشن ادارة النقوش کو ہی حاصل ہوتا ۔”

“گجرانوالا میں پلے بڑھے، ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی، میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالا سے ہی پاس کیا۔”

“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”

“گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا، اور لاہور کو اسلام سے روشناس کرایا۔”

“....اور جس دن تم نے اپنی محبت حاصل کر لی ....اس دن کسی شے کی طلب باقی نہیں رہے گی ....حتٰی کہ اس سگریٹ کی بھی نہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
In this Daastan interview, Khalid Salamat shares his journey, decades in consumer marketing, and how life shapes his writing.
LAHORE: The launching ceremony of a book titled "From Partition to Pioneer”, "focusing on the life and services of...
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے